Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue
2:28
كيف تكفرون بالله وكنتم امواتا فاحياكم ثم يميتكم ثم يحييكم ثم اليه ترجعون ٢٨
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَٰتًۭا فَأَحْيَـٰكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ٢٨
كَيۡفَ
تَكۡفُرُونَ
بِٱللَّهِ
وَكُنتُمۡ
أَمۡوَٰتٗا
فَأَحۡيَٰكُمۡۖ
ثُمَّ
يُمِيتُكُمۡ
ثُمَّ
يُحۡيِيكُمۡ
ثُمَّ
إِلَيۡهِ
تُرۡجَعُونَ
٢٨
Comment pouvez-vous renier Allah alors qu’Il vous a donné la vie, quand vous en étiez privés? Puis Il vous fera mourir; puis Il vous fera revivre et enfin c’est à Lui que vous retournerez.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith

ان قوی دلائل کے ہوتے ہوئے اللہ کا انکار کرنا ، کفر و انکار کی وہ قبیح اور ناپسندیدہ روش ہے جس کی پشت پر کوئی سند و دلیل نہیں ہے ۔ قرآن کریم یہاں ایک ایسی حقیقت پیش کرتا ہے جس سے ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ اس حقیقت اور اس کے لازمی نتائج کو تسلیم کرلیں ۔ قرآن ان کے سامنے قافلہ حیات اور اس کے مختلف حالات و کیفیات لاکر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اس پر غور کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان مردہ حالت میں تھے ، اللہ نے انہیں زندگی سے نوازا ، اللہ ہی انہیں حالت موت سے حالت حیات کی طرف لایا ، یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ سوائے قدرت الٰہی اور تخلیق الٰہی کے اس کی کوئی اور توجیہ وہ نہیں کرسکتے ۔ وہ زندہ ہیں ان کے قلب جسدی میں حیات موجود ہے ؟ اس حیات کا خالق کون ہے ؟ وہ کون ہے جس نے جمادات میں یہ زائد صفت ، صفت حیات پیدا کی ؟ کیونکہ جمادات جن پر موت وجمود کی حالت طاری ہے ، وہ حیات کی حقیقت ومزاج سے بالکل مختلف ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس حیات کا مصدر کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایسا ہے کہ عقل ونفس ہر وقت کوئی حقیقی اور تشفی بخش جواب چاہتا ہے اور کسی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس سوال کو نظر انداز کرسکے ۔ پھر اس سوال کے جواب میں کوئی ایسی بات انسان کو مطمئن نہیں کرسکتی جس میں اس مادی دنیا سے آگے کسی خالق ذات کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔

غرض یہ زندگی جو اس زمین پر رواں دواں ہے اور جس کی روش جمادات سے بالکل مختلف ہے کہاں سے آئی ؟ اس کا واحد تشفی بخش جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی اور اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے ، یہی جواب ایسا ہے جو سمجھ میں آسکتا ہے ۔ اگر کسی کو یہ جواب تسلیم نہیں ہے تو ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ لائے وہ کوئی تشفی بخش جواب ؟

یہ ہے وہ حقیقت جسے قرآن کریم اس موقع پر لوگوں کے سامنے رکھتا ہے ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ” تم اللہ کے ساتھ کفر کارویہ اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے ، اس نے تم کو زندگی عطاکی ۔ “ یعنی تم اس طرح بےجان تھے جس طرح تمہارے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بےجان ہے ۔ اس نے تمہارے اندر جان پیدا کی اور تمہیں زندہ کیا ۔ کوئی اپنے خالق سے انکار کیوں کرسکتا ہے ۔ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ” پھر تمہاری جان سلب کرلے گا۔ “ یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ زندہ وذی روح مخلوقات کا مرنا روزمرہ کا معمول ومشاہدہ ہے ۔ لہٰذا زندگی کے بعد مرنا ایک ایسی حقیقت ہے جو ازخود ہی ذہنوں پر حاوی ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی بحث وجدال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ” پھر وہ تمہیں دوبارہ زندگی عطاکرے گا۔ “ یہ تھی وہ حقیقت جس میں ان کو شک تھا ، لہٰذا وہ اس کے بارے میں بحث وجدال کرتے تھے اور آج بھی اس میں بعض کج فطرت لوگ شک کرتے ہیں ، جو آج پھر صدیوں قبل کی جاہلیت کی طرف لوٹ چکے ہیں ۔ لیکن انسان اگر اس بات پر غور کرے کہ وہ پہلے بھی کچھ نہ تھا۔ اسے پیدا کیا گیا ، لہٰذا یہ بات عقل سے بعید نہیں ہے کہ موت کے بعد دوبارہ اسے زندہ کیا جاسکتا ہے ۔ پس یہ عقیدہ کوئی ایسا عجوبہ نہیں ہے کہ لازماً اس کی تکذیب ہی کی جائے ۔

ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ” پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔ “ جیسا کہ اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تم اس کی طرف لوٹوگے ، جس طرح اس نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔ اسی طرح تم اٹھائے جاؤگے ۔ جس طرح تم مردہ حالت سے نکال کر اس زندہ حالت میں لائے گئے ۔ اسی طرح تم اسی کی طرف پلٹ کر جاؤگے تاکہ وہ تمہارے درمیان اپنا حکم نافذ کرے اور تمہارے قضیوں کا فیصلہ کرے۔

یہ ایک مختصر سی آیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پل بھر میں زندگی کا پورا دفتر پھیلا بھی دیا ۔ اور لپیٹ بھی لیا ۔ ایک چمک اٹھی اور دیکھا گیا کہ پوری انسانیت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اللہ نے پہلے اسے زندہ کرکے زمین میں پھیلایا ، پھر اسے اچانک موت نے آلیا ، پھر روز محشر کا منظر ہے جس میں پوری انسانیت اٹھ رہی ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح پہلے اللہ نے اسے زندہ کیا تھا ۔ اس برق رفتارپیرایہ بیان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ صاف صاف نظر آتی ہے اور انسانی احساس و شعور پر اس کے گہرے اثرات پڑتے ہیں ۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Devenez donateur mensuel

Les dons mensuels nous aident à améliorer Quran.com et à maintenir nos opérations afin que nous nous concentrions moins sur la collecte de fonds et davantage sur la création d'un impact. En savoir plus

Faites un don maintenant
Lire, Écouter, Rechercher et Méditer sur le Coran

Quran.com est une plateforme fiable utilisée par des millions de personnes dans le monde pour lire, rechercher, écouter et méditer sur le Coran en plusieurs langues. Elle propose des traductions, des tafsirs, des récitations, des traductions mot à mot et des outils pour une étude plus approfondie, rendant le Coran accessible à tous.

En tant que Sadaqah Jariyah, Quran.com se consacre à aider les gens à se connecter profondément au Coran. Soutenu par Quran.Foundation , une organisation à but non lucratif 501(c)(3), Quran.com continue de se développer en tant que ressource gratuite et précieuse pour tous, Alhamdulillah.

Naviguer
Accueil
Quran Radio
Récitateurs
À propos de nous
Développeurs
Mises à jour du produit
Avis
Aider
Faire un don
Nos projets
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projets à but non lucratif détenus, gérés ou sponsorisés par Quran.Foundation
Liens populaires

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Plan du site (sitemap)ConfidentialitéTermes et conditions
© 2026 Quran.com. Tous droits réservés