Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue
20:12
اني انا ربك فاخلع نعليك انك بالواد المقدس طوى ١٢
إِنِّىٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًۭى ١٢
إِنِّيٓ
أَنَا۠
رَبُّكَ
فَٱخۡلَعۡ
نَعۡلَيۡكَ
إِنَّكَ
بِٱلۡوَادِ
ٱلۡمُقَدَّسِ
طُوٗى
١٢
Je suis ton Seigneur. Enlève tes sandales ! Car tu es dans la vallée sacrée Tuwâ.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 20:11 à 20:16

حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس وقت تم خدا سے ہم کلام ہو اور خدا نے تم کو اپنی پیغمبری کے لیے چنا ہے۔

اس وقت حضرت موسیٰ کو جو تعلیم دی گئی وہ وہی تھی جو تمام پیغمبروں کو ہمیشہ تعلیم کی گئی ہے۔ یعنی ایک خدا کو معبود بنانا۔ اسی کی عبادت کرنا۔ اسی کو ہر موقع پر یاد رکھنا۔ پھر حضرت موسیٰ کو زندگی کی اس حقیقت کی خبر دی گئی کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ ایک خاص مدت تک کے لیے خدا نے حقیقتوں کو غیب میں چھپا دیا ہے۔ قیامت میں یہ پردہ پھٹ جائے گا۔ اس کے بعد انسانی زندگی کا اگلا دور شروع ہوگا جس میں ہر آدمی اس عمل کے مطابق مقام پائے گا جو اس نے موجودہ دنیا میں کیا تھا۔

جب ایک آدمی پر خواہشوں کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ آخرت سے بے پروا ہو کر دنیا کے راستوں میںچل پڑتا ہے تو وہ اپنے اس فعل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے نظریات وضع کرتا ہے۔ وہ اپنی روش کو خوب صورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اس کو سن کر دوسرے لوگ بھی آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔