Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Yusuf 12:65

12:65
ولما فتحوا متاعهم وجدوا بضاعتهم ردت اليهم قالوا يا ابانا ما نبغي هاذه بضاعتنا ردت الينا ونمير اهلنا ونحفظ اخانا ونزداد كيل بعير ذالك كيل يسير ٦٥
وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَـٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَـٰذِهِۦ بِضَـٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍۢ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ ٦٥
وَلَمَّا
فَتَحُواْ
مَتَٰعَهُمۡ
وَجَدُواْ
بِضَٰعَتَهُمۡ
رُدَّتۡ
إِلَيۡهِمۡۖ
قَالُواْ
يَٰٓأَبَانَا
مَا
نَبۡغِيۖ
هَٰذِهِۦ
بِضَٰعَتُنَا
رُدَّتۡ
إِلَيۡنَاۖ
وَنَمِيرُ
أَهۡلَنَا
وَنَحۡفَظُ
أَخَانَا
وَنَزۡدَادُ
كَيۡلَ
بَعِيرٖۖ
ذَٰلِكَ
كَيۡلٞ
يَسِيرٞ
٦٥
Et lorsqu’ils ouvrirent leurs bagages, ils trouvèrent qu’on leur avait rendu leurs marchandises. Ils dirent : "Ô notre père ! Que désirons-nous [de plus] ? Voici que nos marchandises nous ont été rendues. Et ainsi nous approvisionnerons notre famille, nous veillerons à la sécurité de notre frère et nous ajouterons la charge d’un chameau. C’est une charge facile.”
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith

ولما فتحوا متاعھم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیل یسیر ۔ (12 : 65) “ پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے “ ابان جان ، اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے۔ اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل عیال کے لئے رسد لے کر آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا ”۔

ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صرف خاندان کا بھلا چاہتے ہیں ، جب خاندان کے لئے ہم زاد راہ کی تلاش میں جا رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ بھائی کی حفاظت کریں گے۔ بھائی کی وجہ سے ایک بار شتر غلہ اور زیادہ مل جائے گا۔ جب بھائی ساتھ ہوگا تو اس کا حصہ رسدی لازماً ملے گا۔

ان کی اس بات سے کہ ہم ایک بار شتر غلہ زیادہ لائیں گے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کو ایک بار شتر غلہ دیتے تھے۔ کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ جس قدر غلہ چاہے لے جائے۔ کیونکہ خشک سالی کے دور میں کنڑول کرنے میں حکمت تھا تا کہ سب کو تھوڑا تھوڑا غلہ ملتا رہے۔