وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ya-Sin ۸۲:۳۶

۸۲:۳۶
انما امره اذا اراد شييا ان يقول له كن فيكون ٨٢
إِنَّمَآ أَمْرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٨٢
إِنَّمَآ
أَمۡرُهُۥٓ
إِذَآ
أَرَادَ
شَيۡـًٔا
أَن
يَقُولَ
لَهُۥ
كُن
فَيَكُونُ
٨٢
جز این نیست که فرمان او، چون چیزی را اراده کند، (این است) که به آن می‌گوید: «موجود شو» پس (بی درنگ) موجود می‌شود.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

انما امرہ ۔۔۔۔ کن فیکون (36: 82) ” وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے “۔ یہ چیز زمین ہو یا آسمان ہوں ، مچھر ہو یا پسو ہو ، یا چیونٹی ، یہ سب چیزیں اللہ کے حکم کے سامنے یکساں ہوتی ہیں۔ کن فیکون۔

اللہ کے سامنے مشکل و آسان کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ کے لیے قریب و بعید یکساں ہیں۔ صرف ارادے کا متوجہ ہونا ہوتا ہے

ادھر ارادہ ہوا ادھر وہ چیز ہوگئی۔ وہ جو بھی ہو۔ اللہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ کے اعمال و افعال کو سمجھ جائیں۔ ورنہ انسان کی محدود قوت مدرکہ کے لیے چیزوں کا سمجھنا ہی مشکل ہے۔

اب اس سورت میں انسان کے قلب و نظر کی تاروں پر ایک آخری ضرب لگائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی ضرب ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کیا ہے۔