وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: Taha آیه 114

۱۱۴:۲۰
فتعالى الله الملك الحق ولا تعجل بالقران من قبل ان يقضى اليك وحيه وقل رب زدني علما ١١٤
فَتَعَـٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِٱلْقُرْءَانِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰٓ إِلَيْكَ وَحْيُهُۥ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِى عِلْمًۭا ١١٤
فَتَعَٰلَىﱁ
ٱللَّهُﱂ
ٱلۡمَلِكُﱃ
ٱلۡحَقُّۗﱄﱅ
وَلَاﱆ
تَعۡجَلۡﱇ
بِٱلۡقُرۡءَانِﱈ
مِنﱉ
قَبۡلِﱊ
أَنﱋ
يُقۡضَىٰٓﱌ
إِلَيۡكَﱍ
وَحۡيُهُۥۖﱎﱏ
وَقُلﱐ
رَّبِّﱑ
زِدۡنِيﱒ
عِلۡمٗاﱓ
١١٤ﱔ
پس بلند مرتبه است الله که فرمانروای حق است، به (تلاوت) قرآن شتاب مکن؛ پیش از آن که وحی آن برتو تمام شود، و بگو: «پروردگارا! به علم من بیفزا».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗز ””عجلت“ کا مضمون یہاں چوتھی مرتبہ آیا ہے۔ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو آیت نمبر 83 کی تشریح۔ آپ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ قرآن کے معاملے میں جلدی نہ کریں۔ آپ ﷺ کا شوق بجا مگر وحی سے متعلق تمام معاملات وقت ‘ مقدار ‘ مضمون وغیرہ اللہ کی حکمت اور مشیت کے مطابق طے پائیں تو اسی میں خیر اور بہتری ہے۔وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ”جیسے جیسے قرآن نازل ہو رہا ہے ‘ آپ ﷺ اس کے اسرار و رموز سے متعلق اپنے فہم و تدبر اور بصیرت باطنی میں اضافے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کرتے رہیں۔