وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: Taha آیه 113

۱۱۳:۲۰
وكذالك انزلناه قرانا عربيا وصرفنا فيه من الوعيد لعلهم يتقون او يحدث لهم ذكرا ١١٣
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَانًا عَرَبِيًّۭا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ ٱلْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًۭا ١١٣
وَكَذَٰلِكَﳒ
أَنزَلۡنَٰهُﳓ
قُرۡءَانًاﳔ
عَرَبِيّٗاﳕ
وَصَرَّفۡنَاﳖ
فِيهِﳗ
مِنَﳘ
ٱلۡوَعِيدِﳙ
لَعَلَّهُمۡﳚ
يَتَّقُونَﳛ
أَوۡﳜ
يُحۡدِثُﳝ
لَهُمۡﳞ
ذِكۡرٗاﳟ
١١٣ﳠ
و این گونه آن را قرآنی عربی نازل کردیم، و وعید (و هشدارهای) گوناگون را در آن بیان داشتیم، شاید آن‌ها تقوا پیشه کنند، یا این کتاب برای آن‌ها پندی پدید آورد.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:113 تا 20:114

خدا نے اپنی کتاب جس میں ہر قسم کے دلائل ہیں، انسانی زبان میں اتاری ہے۔ اور اس زبان کو ہمیشہ کے لیے ایک زندہ زبان بنا دیا ہے۔ اس طرح خدا کی ہدایت کو ایک ایسی چیز بنا دیا گیا ہے جس کو ہر زمانہ کا آدمی پڑھ اور سمجھ سکے۔

داعی جب حق کی دعوت لے کر اٹھے تو اس کے سامنے نتیجہ کے اعتبار سے دو چیزیں ہونی چاہئیں۔ پہلی مطلوب چیز تو یہ ہے کہ سننے والے کے اندر نفسیاتی انقلاب پیدا ہو اور وہ اللہ سے ڈرنے والا بن جائے۔ دوسری اس سے کمتر بات يه ہے کہ داعی کی بات سننے والے کے ذہن میں سوال بن کر داخل ہوجائے۔

مکہ میں دعوتی مہم کے دوران روزانہ لوگوں کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے تھے اور نئے نئے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش فطری طور پر یہ ہوتی تھی کہ قرآن کا وقفۂ نزول کم ہو،تا کہ آپ کو جلد جلد خدائی رہنمائی ملتی رہے۔ فرمایا کہ قرآن جس تدریج سے اتر رہا ہے وہ خدا کا طے شدہ منصوبہ ہے۔ وہ اسی طرح اترے گا اور بہر حال اپنی تکمیل تک پہنچے گا۔ تم مستقبل کے قرآن کو حال میں اتارنے کے خواہش مندنہ بنو۔ البتہ یہ دعا کرو کہ خدا تمھارے فہم قرآن میں اضافہ کرے۔ قرآن کی آیتوں میں جو وسیع مضامین چھپے ہوئے ہیں ان کا ادراک کرنے کی صلاحیت پیدا کردے۔ قرآن کی اگلی آیتوں کے بارے میں تعمیل کے بجائے تمھیں اس حکمت کو جاننے کا خواہش مند ہونا چاہیے کہ قرآن کے نزول میں ترتیب وتدریج کیوں رکھی گئی ہے۔

اس سے یہ نکلتاہے کہ داعی کو کبھی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہيے۔ دعوت کے حالات میں جہاد کے مسائل بیان کرنا۔ اصلاحِ افراد کے دور میں اجتماعی اقدام کے احکام سنانا۔ جن مواقع پر صبرمطلوب ہے ان مواقع پر قتال کی آیتوں کے حوالے دینا، یہ سب اسی کے ذیل میں داخل ہے۔ اور اس سے پرہیز کرنا داعی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔