وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۰:۲۰
اذ راى نارا فقال لاهله امكثوا اني انست نارا لعلي اتيكم منها بقبس او اجد على النار هدى ١٠
إِذْ رَءَا نَارًۭا فَقَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدًۭى ١٠
إِذۡ
رَءَا
نَارٗا
فَقَالَ
لِأَهۡلِهِ
ٱمۡكُثُوٓاْ
إِنِّيٓ
ءَانَسۡتُ
نَارٗا
لَّعَلِّيٓ
ءَاتِيكُم
مِّنۡهَا
بِقَبَسٍ
أَوۡ
أَجِدُ
عَلَى
ٱلنَّارِ
هُدٗى
١٠
هنگامی‌که آتشی را (از دور) دید، پس به خانوادۀ خود گفت: «(لحظه‌ای) درنگ کنید، همانا من آتشی را دیده‌ام شاید شعله‌ای از آن برای شما بیاورم، یا بر آن آتش راهنمایی بیابم».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:10 تا 20:11

آیت 10 اِذْ رَاٰ نَارًا ”یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے مصر کی طرف واپس آ رہے تھے۔ اندھیری رات تھی ‘ سردی کا موسم تھا اور راستے کے بارے میں بھی ان کے پاس یقینی معلومات نہیں تھیں۔ اس صورت حال میں جب آپ علیہ السلام کو آگ نظر آئی ہوگی تو یقیناً آپ علیہ السلام بہت خوش ہوئے ہوں گے۔لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ”ممکن ہے مجھے وہاں سے کوئی چنگاری مل جائے جس کی مدد سے ہم آگ جلا کر تاپ سکیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں سے مجھے راستے کے بارے میں کوئی راہنمائی مل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں ہم کسی غلط راستے پر چلتے رہیں۔