وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۵۱:۳۸
متكيين فيها يدعون فيها بفاكهة كثيرة وشراب ٥١
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـٰكِهَةٍۢ كَثِيرَةٍۢ وَشَرَابٍۢ ٥١
مُتَّكِـِٔينَ
فِيهَا
يَدۡعُونَ
فِيهَا
بِفَٰكِهَةٖ
كَثِيرَةٖ
وَشَرَابٖ
٥١
در آنجا تکیه زده‌اند، و در آن میوۀ فراوان و نوشیدنی را می‌طلبند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 38:49 تا 38:54

جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔

قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔