وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۹:۵۰
ونزلنا من السماء ماء مباركا فانبتنا به جنات وحب الحصيد ٩
وَنَزَّلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ مُّبَـٰرَكًۭا فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ جَنَّـٰتٍۢ وَحَبَّ ٱلْحَصِيدِ ٩
وَنَزَّلۡنَا
مِنَ
ٱلسَّمَآءِ
مَآءٗ
مُّبَٰرَكٗا
فَأَنۢبَتۡنَا
بِهِۦ
جَنَّٰتٖ
وَحَبَّ
ٱلۡحَصِيدِ
٩
و از آسمان آبی پر برکت نازل کردیم، پس با آن باغ‌ها و دانه (های) درو شدنی رویاندیم،
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 50:6 تا 50:15

قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔

دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔