وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Maryam ۷۷:۱۹

۷۷:۱۹
افرايت الذي كفر باياتنا وقال لاوتين مالا وولدا ٧٧
أَفَرَءَيْتَ ٱلَّذِى كَفَرَ بِـَٔايَـٰتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًۭا وَوَلَدًا ٧٧
أَفَرَءَيۡتَ
ٱلَّذِي
كَفَرَ
بِـَٔايَٰتِنَا
وَقَالَ
لَأُوتَيَنَّ
مَالٗا
وَوَلَدًا
٧٧
آیا کسی را دیده‌ای به آیات ما کافر شد، و گفت: «قطعاً مال و فرزند (فراوانی) به من داده خواهد شد»؟!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اس آیت کے شان نزول میں حضرت خباب ابن الارت کی یہ روایت آئی ہے :” میں ایک لوہار تھا۔ عاص ابن وائل پر میرا قرض تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے اپنے قرضے کا تقاضا کیا تو اس نے کہا خدا کی قسم میں تجھے ہر گز تمہارا قرض نہ دوں گا جب تک تم محمد ﷺ پر ایمان لانے سے انکار نہ کردو۔ تو میں نے کہا خدا کی قسمایسا نہیں ہوسکتا۔ میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ تم ایک بار مرکر دوبارہ زندہ نہ ہو جائو۔ اس نے کہا اچھا پھر جب میں مر گیا اور دوبارہ زندہ ہوگیا تو وہ وہاں میرے پاس بہت مال ہوگا ‘ میری اولاد ہوگی ‘ وہاں آنا میرے پاس میں آپ کو قرض دے دوں گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

افرء یت الذی۔۔۔۔۔۔ ما لاو ولدا (91 : 77) ” تو نے دیکھا اس شخص کو ‘ جو ہماری آیات کے ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتارہوں گا “۔

عاص ابن وائل کی یہ بات کفار قریش کے اس ذاق کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے جو وہ بعث بعد الموت کے نظر یہ کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کی سوچ پر تعجب سے یہ تبصرہ اور گرفت کرتا ہے۔