وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۱۰:۱۱
ولقد اتينا موسى الكتاب فاختلف فيه ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم وانهم لفي شك منه مريب ١١٠
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَٱخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ ١١٠
وَلَقَدۡ
ءَاتَيۡنَا
مُوسَى
ٱلۡكِتَٰبَ
فَٱخۡتُلِفَ
فِيهِۚ
وَلَوۡلَا
كَلِمَةٞ
سَبَقَتۡ
مِن
رَّبِّكَ
لَقُضِيَ
بَيۡنَهُمۡۚ
وَإِنَّهُمۡ
لَفِي
شَكّٖ
مِّنۡهُ
مُرِيبٖ
١١٠
و به راستی (ما) به موسی کتاب دادیم، پس در آن اختلاف شد، و اگر فرمان پیشین پروردگارت نبود، قطعاً در میان آنان داوری می‌شد، و همانا آن‌ها در این (قرآن) سخت در شک و تردید هستند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 11:109 تا 11:111
مشرکوں کا حشر ٭٭

مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» [20-طه:129-130] ‏ ” چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره “۔

کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

صفحہ نمبر3925