وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: At-Tawbah ۶۴:۹

۶۴:۹
يحذر المنافقون ان تنزل عليهم سورة تنبيهم بما في قلوبهم قل استهزيوا ان الله مخرج ما تحذرون ٦٤
يَحْذَرُ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌۭ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِى قُلُوبِهِمْ ۚ قُلِ ٱسْتَهْزِءُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ مُخْرِجٌۭ مَّا تَحْذَرُونَ ٦٤
يَحۡذَرُ
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ
أَن
تُنَزَّلَ
عَلَيۡهِمۡ
سُورَةٞ
تُنَبِّئُهُم
بِمَا
فِي
قُلُوبِهِمۡۚ
قُلِ
ٱسۡتَهۡزِءُوٓاْ
إِنَّ
ٱللَّهَ
مُخۡرِجٞ
مَّا
تَحۡذَرُونَ
٦٤
منافقان می‌ترسند که مبادا سوره‌ای بر (علیه) آنان نازل شود، و به آن‌ها از آنچه درون دل‌های شان (نهفته) است، آگاه سازد، بگو: «استهزا کنید، بی‌گمان الله، آنچه را که از آن می‌ترسید، آشکار می‌سازد».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھبراتے بھی ہیں ٭٭

آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو بذریعہ وحی الٰہی خبر نہ ہو جائے،

اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی سزا کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے جہنم کی کافی سزا موجود ہے جو بدترین جگہ ہے۔ [58-المجادلة:8] ‏

یہاں فرماتا ہے دینی باتوں، مسلمانوں کی حالتوں پر دل کھول کر مذاق اڑالو، اللہ تعالیٰ بھی وہ کھول دے گا جو تمہارے دلوں میں ہے، یاد رکھو ایک دن رسوا اور فضیحت ہو کر رہو گے۔ چنانچہ فرمان ہے کہ یہ بیمار دل لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے دلوں کی بدیاں ظاہر ہی نہ ہوں گی، ہم تو انہیں اس قدر فضیحت کریں گے، اور ایسی نشانیاں تیرے سامنے رکھ دیں گے کہ تو ان کے لب و لہجے سے ہی انہیں پہچان لے۔ [47-محمد:29،30] ‏اس سورت کا نام ہی سورۃ الفاضحہ ہے اس لیے کہ اس نے منافقوں کی قلعی کھول دی۔

صفحہ نمبر3511