وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Bayan ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 89

۸۹:۲۷
من جاء بالحسنة فله خير منها وهم من فزع يوميذ امنون ٨٩
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌۭ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍۢ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ ٨٩
مَنﱁ
جَآءَﱂ
بِٱلۡحَسَنَةِﱃ
فَلَهُۥﱄ
خَيۡرٞﱅ
مِّنۡهَاﱆ
وَهُمﱇ
مِّنﱈ
فَزَعٖﱉ
يَوۡمَئِذٍﱊ
ءَامِنُونَﱋ
٨٩ﱌ
هر کس‌که نیکی آورد، پس (پاداشی) بهتر از آن خواهد داشت، و آنان از وحشت آن روز در امان هستند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 89 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا ج ”ایک نیکی کا اجر دس گنا بھی ہوسکتا ہے ‘ سات سو گنا بھی اور اس سے بھی زیادہ۔ بہر حال نیکی کا بدلہ بڑھا چڑھا کردیا جائے گا۔وَہُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَءِذٍ اٰمِنُوْنَ ”اس سے قیامت کے دن کی گھبراہٹ مراد ہے جسے سورة الحج کی پہلی آیت میں اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ کہا گیا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ قیام قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ مؤمنین صادقین کو سکون کی موت عطا کر کے اس دن کی گھبراہٹ سے بچا لے گا۔ اس کے علاوہ ان الفاظ میں اس مفہوم کی گنجائش بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بعث الموت کے بعد میدان حشر کی گھبراہٹ سے بھی محفوظ رکھے گا۔