وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 88

۸۸:۲۷
وترى الجبال تحسبها جامدة وهي تمر مر السحاب صنع الله الذي اتقن كل شيء انه خبير بما تفعلون ٨٨
وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةًۭ وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِ ۚ صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ ۚ إِنَّهُۥ خَبِيرٌۢ بِمَا تَفْعَلُونَ ٨٨
وَتَرَىﳏ
ٱلۡجِبَالَﳐ
تَحۡسَبُهَاﳑ
جَامِدَةٗﳒ
وَهِيَﳓ
تَمُرُّﳔ
مَرَّﳕ
ٱلسَّحَابِۚﳖﳗ
صُنۡعَﳘ
ٱللَّهِﳙ
ٱلَّذِيٓﳚ
أَتۡقَنَﳛ
كُلَّﳜ
شَيۡءٍۚﳝﳞ
إِنَّهُۥﳟ
خَبِيرُۢﳠ
بِمَاﳡ
تَفۡعَلُونَﳢ
٨٨ﳣ
و کوه‌ها را می‌بینی، (و) آن‌ها را جامد (و بی‌حرکت) پنداری، در حالی‌که مانند حرکت ابر‌ها در حرکت هستند (این) صنع (و آفرینش) اللهِ است که هر چیزی را محکم (و استوار) ساخته است، بی‌گمان او از آنچه انجام می‌دهید؛ با خبر است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:87 تا 27:90

موجودہ دنیا میں انکار کا اصل سبب انسان کی بے خوفی ہے۔ یہ دراصل بے خوفی کی نفسیات ہے جس کی وجہ سے آدمی حق کو نظر انداز کرتاہے اور اس کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور اس کی علامت کے طورپر صور پھونک دیا جائے گا تو اچانک لو گ محسوس کریں گے کہ ان کی بے خوفی محض بے خبری کی بناپر تھی۔ اس دن تمام بڑائیاں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جائیں گی۔ یہ ایسا سخت لمحہ ہوگا کہ انسان تو درکنار پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس وقت سارا عجز ایک طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔

اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔