وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Naml آیه 84

۸۴:۲۷
حتى اذا جاءوا قال اكذبتم باياتي ولم تحيطوا بها علما اماذا كنتم تعملون ٨٤
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَـٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨٤
حَتَّىٰٓﲓ
إِذَاﲔ
جَآءُوﲕ
قَالَﲖ
أَكَذَّبۡتُمﲗ
بِـَٔايَٰتِيﲘ
وَلَمۡﲙ
تُحِيطُواْﲚ
بِهَاﲛ
عِلۡمًاﲜ
أَمَّاذَاﲝ
كُنتُمۡﲞ
تَعۡمَلُونَﲟ
٨٤ﲠ
تا هنگامی‌که (به سرزمین محشر) می‌آیند (الله) می‌فرماید: «آیا مرا تکذیب کردید در حالی‌که به آن احاطۀ علمی نداشتید، یا چه (کاری) بود که می‌کردید؟!»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 27:82 تا 27:86

جب اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوگا کہ زمین کی موجودہ تاریخ ختم کردی جائے تو آخری طورپر کچھ غیر معمولی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ انھیں میں سے ایک دابّہ (جانور) کا ظہور ہے۔ انسانی داعیوں کی زبان سے جو بات لوگوں نے نہیں مانی اس کا اعلان ایک غیر انسانی مخلوق کے ذریعہ کرایا جائے گا۔ تاہم یہ امتحان کا وقت ختم ہونے کا گھنٹہ ہوگا، نہ کہ امتحان کا وقت شروع ہونے کا اعلان۔

قیامت میں جب تمام لوگ حاضر ہوں گے تو ان کی جماعتیں بنائی جائیں گی۔ ماننے والے ایک طرف کردیے جائیں گے اور نہ ماننے والے دوسری طرف۔ اس کے بعد منکرین سے پوچھاجائے گاکہ تمھارے پاس کون سی علمی دلیل تھی جس کی بنا پر تم نے صداقت کا انکار کیا۔ اس وقت ان کا لاجواب ہونا ثابت کرے گا کہ ان کا انکار محض ضد اور تعصب پر مبنی تھا۔ اگر چہ اپنے کو برسرِ حق ظاہر کرنے کے ليے وہ جھوٹے دلائل پیش کیا کرتے تھے۔اس وقت ان پر کھلے گا کہ داعی کے ملفوظ کلام کے علاوہ رات اور دن بھی غیر ملفوظ زبان میں ان کو امر حق سے مطلع کررہے تھے۔ رات کی نیند گویا موت کی تمثیل تھی۔ اور صبح کا جاگنا دوبارہ جی اٹھنے کی تمثیل۔ اعلان حق کے اتنے غیر معمولی اہتمام کے باوجود وہ حق کی دریافت سے محروم رہے۔