وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

Tazkir ul Quran تفسیر: An-Najm آیه 17

۱۷:۵۳
ما زاغ البصر وما طغى ١٧
مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧
مَاﲐ
زَاغَﲑ
ٱلۡبَصَرُﲒ
وَمَاﲓ
طَغَىٰﲔ
١٧ﲕ
چشم (پیامبر) خطا نکرد و (از حد) در نگذشت.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 53:1 تا 53:25

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔

’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔