وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Qasas ۳۷:۲۸

۳۷:۲۸
وقال موسى ربي اعلم بمن جاء بالهدى من عنده ومن تكون له عاقبة الدار انه لا يفلح الظالمون ٣٧
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّىٓ أَعْلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ مِنْ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَـٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٣٧
وَقَالَ
مُوسَىٰ
رَبِّيٓ
أَعۡلَمُ
بِمَن
جَآءَ
بِٱلۡهُدَىٰ
مِنۡ
عِندِهِۦ
وَمَن
تَكُونُ
لَهُۥ
عَٰقِبَةُ
ٱلدَّارِۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
٣٧
و موسی گفت: «پروردگار من از (حال) کسی‌که هدایت را از نزد او آورده، و کسی‌که سرانجام سرای (دیگر) از آنِ اوست، دانا‌تر است، بی‌گمان ستمکاران رستگار نخواهند شد» [ مراد از «ظالم» مشرک و کافر است. چرا که ظلم یعنی گذاشتن چیزی در جای غیر مختص به خود، و مشرک ظالم شمرده می‌شود چون که کسانی را در مقام الوهیت قرار می‌دهد که لایق آن نیست، و همچنین کافر چون که از حقیقت مقام پروردگار کاملاً جاهل و ناآشنا می‌باشد ظالم شمرده شده‌است.].
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 28:36 تا 28:38

ایک شخص اپنے کو بڑا سمجھتاہو، اس کے سامنے ایک بظاہر معمولی آدمی آئے اور اس پر براہِ راست تنقید کرے تو وہ فوراً بپھر اٹھتا ہے۔ وہ اس کا استہزا کرتاہے اور اس کا مذاق اڑانے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ یہی اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں کیا۔

’’میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا‘‘— کوئی سنجیدہ جملہ نہیںہے۔ ان الفاظ سے فرعون کا مقصود بیانِ حقیقت نہیں بلکہ تحقیر موسیٰ ہے۔ اسی طرح فرعون نے جب اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ پختہ اینٹ تیار کرکے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں آسمان میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں، تو یہ کوئی سنجیدہ حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعۃً وہ اپنے وزیر کے نام ایک تعمیری فرمان جاری کررہا ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ کا استہزا تھا، نہ کی فی الواقع تعمیر مکان کا کوئی حکم۔