وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۲۵:۶۸
وغدوا على حرد قادرين ٢٥
وَغَدَوْا۟ عَلَىٰ حَرْدٍۢ قَـٰدِرِينَ ٢٥
وَغَدَوۡاْ
عَلَىٰ
حَرۡدٖ
قَٰدِرِينَ
٢٥
و صبحگاهان با تصمیم جدی بر منع و جلوگیری (از مستمندان) بیرون شدند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 25{ وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ۔ } ”اور وہ صبح سویرے چلے جلدی جلدی یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اس ارادہ پر پوری طرح قادر ہیں۔“ یہ آیت لفظی تصویر کشی کی بہترین مثال ہے۔ اس وقت ان لوگوں کی جو ذہنی ‘ نفسیاتی اور ظاہری کیفیت تھی ان الفاظ میں اس کی ہوبہو تصویر کھینچ کر رکھ دی گئی ہے۔ انہیں زعم تھا کہ انہوں نے بڑی کامیاب منصوبہ بندی کی ہے ‘ ابھی تھوڑی ہی دیر میں وہ پھل اتار کرلے جائیں گے اور بھیک منگوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔ ] حَرْدکا معنی قصد اور ارادہ ہے۔ یعنی انہوں نے جو یہ ارادہ کیا تھا کہ آج کسی غریب کو باغ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور صبح سویرے باغ کا پھل اتار لیں گے ‘ وہ خیال کر رہے تھے کہ ہم اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ [