وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Hujurat ۱۸:۴۹

۱۸:۴۹
ان الله يعلم غيب السماوات والارض والله بصير بما تعملون ١٨
إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٨
إِنَّ
ٱللَّهَ
يَعۡلَمُ
غَيۡبَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
وَٱللَّهُ
بَصِيرُۢ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
١٨
همانا الله غیب آسمان‌ها و زمین را می‌داند، و الله به آنچه انجام می‌دهید بیناست.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 49:16 تا 49:18

کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔

اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔