وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Anbiya ۴۲:۲۱

۴۲:۲۱
قل من يكلوكم بالليل والنهار من الرحمان بل هم عن ذكر ربهم معرضون ٤٢
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ ٤٢
قُلۡ
مَن
يَكۡلَؤُكُم
بِٱلَّيۡلِ
وَٱلنَّهَارِ
مِنَ
ٱلرَّحۡمَٰنِۚ
بَلۡ
هُمۡ
عَن
ذِكۡرِ
رَبِّهِم
مُّعۡرِضُونَ
٤٢
(ای پیامبر!) بگو: «چه کسی شما را در شب و روز از (عذاب الله) رحمان نگاه می‌دارد؟ بلکه (حق این است که) آن‌ها از یاد پروردگارشان روی گردانند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 21:42 تا 21:43

خداکی پکڑ کا مسئلہ کسی دور دراز مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ اسی دن رات کے اندر چھپا ہوا ہے جس میں آدمی اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتا ہے۔ مثلاً سورج اور زمین کا فاصلہ اگر نصف کے بقدر گھٹ جائے تو ہمارے دن اتنے گرم ہوجائیں کہ وہ ہم کو آگ کے شعلہ کی طرح جلادیں۔ اس کے برعکس، اگر زمین سے سورج کا فاصلہ دگنا بڑھ جائے تو ہماري راتیں اتنی ٹھنڈی ہوجائیں کہ ہم برف کی طرح جم کر رہ جائیں۔

زمین وآسمان کا یہ حد درجہ موافق نظام جس نے قائم کر رکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ انسان اپنی تمام عقیدتیں اور وفاداریاں اس سے وابستہ کرے، نہ کہ وہ ان جھوٹے معبودوں کی پرستش کرنے لگے جو اس کو کچھ نہیں دے سکتے۔