وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-An'am ۳۱:۶

۳۱:۶
قد خسر الذين كذبوا بلقاء الله حتى اذا جاءتهم الساعة بغتة قالوا يا حسرتنا على ما فرطنا فيها وهم يحملون اوزارهم على ظهورهم الا ساء ما يزرون ٣١
قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ قَالُوا۟ يَـٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ ٣١
قَدۡ
خَسِرَ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِلِقَآءِ
ٱللَّهِۖ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
جَآءَتۡهُمُ
ٱلسَّاعَةُ
بَغۡتَةٗ
قَالُواْ
يَٰحَسۡرَتَنَا
عَلَىٰ
مَا
فَرَّطۡنَا
فِيهَا
وَهُمۡ
يَحۡمِلُونَ
أَوۡزَارَهُمۡ
عَلَىٰ
ظُهُورِهِمۡۚ
أَلَا
سَآءَ
مَا
يَزِرُونَ
٣١
آن‌ها که لقای پروردگار را تکذیب کردند؛ قطعاً زیان دیدند، هنگامی‌که ناگهان قیامت به سراغ‌شان بیاید، گویند: «ای افسوس بر ما که دربارۀ آن کوتاهی کردیم». و آن‌ها (بار) گناهان‌شان را بر پشت‌های خود حمل می‌کنند، چه بد باری است آنچه را حمل می‌کنند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 31 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ ط۔وہ اس بات کو جھٹلا رہے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی پیشی ‘ حاضری یا اللہ سے ملاقات وغیرہ ہوگی۔ حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً ایک شخص کے لیے انفرادی طور پر تو السَّاعَۃ گھڑی سے مراد اس کی موت کا وقت ہے ‘ لیکن عام طور پر اس سے قیامت ہی مراد لی گئی ہے۔ چناچہ اس کا مطلب ہے کہ جب قیامت اچانک آجائے گی۔قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَالا وَہُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَہُمْ عَلٰی ظُہُوْرِہِمْ ط اَلاَ سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ۔جب قیامت حق بن کر سامنے آجائے گی تو ان کی حسرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ وہ اپنی پیٹھوں پر کفر ‘ شرک اور گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہوئے میدان حشر میں پیش ہوں گے۔