وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۹:۸۰
من نطفة خلقه فقدره ١٩
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ١٩
مِن
نُّطۡفَةٍ
خَلَقَهُۥ
فَقَدَّرَهُۥ
١٩
او را از نطفۀ (ناچیز) آفریده است، آنگاه او را موزون ساخت.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 19{ مِنْ نُّطْفَۃٍط } ”ایک بوند سے۔“ { خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ۔ } ”اس نے اسے پیدا کیا اور اس کا ایک اندازہ مقرر کردیا۔“ ”اندازے“ سے مراد یہاں ہر انسان کا ”شاکلہ“ ہے ‘ جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت 84 میں آیا ہے۔ انسان کا شاکلہ دراصل اس کی فطری یا جبلی خصوصیات اور اس کے ماحول کے اس کی شخصیت پر مرتب ہونے والے اثرات کے مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔ یعنی ہر انسان کی وہ شخصیت جو اسے پیدائشی طور پر جینز genes کی صورت میں اپنے والدین کی طرف سے ملتی ہے ‘ عملی زندگی میں آکر اپنے ماحول کے مخصوص اثرات کی وجہ سے ایک خاص ”قالب“ میں ڈھل جاتی ہے۔ انسانی شخصیت کے اسی قالب کو اس انسان کا شاکلہ کہا جائے گا۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تشریح آیت 84 ‘ سورة بنی اسرائیل