وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Muhammad ۲۷:۴۷

۲۷:۴۷
فكيف اذا توفتهم الملايكة يضربون وجوههم وادبارهم ٢٧
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـٰرَهُمْ ٢٧
فَكَيۡفَ
إِذَا
تَوَفَّتۡهُمُ
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ
يَضۡرِبُونَ
وُجُوهَهُمۡ
وَأَدۡبَٰرَهُمۡ
٢٧
پس (حال آن‌ها) چگونه خواهد بود هنگامی‌که فرشتگان (مرگ) جان‌هایشان را می‌گیرند، بر چهره‌ها و پشت‌هایشان می‌زنند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

یہ زندگی مختصر ہے اور آخر کار ہمارا لشکر جب پہنچے گا اور ان سے امانت حیات وصول کرے گا تو :

فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم (47 : 27) “ پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟ ”

یہ نہایت ہی خوفزدہ کرنے والا اور توہین آمیز منظر ہے۔ جب ان کی موت کا قت ہوگا یہ بےبس ہوں گے۔ اس زمین پر سے رخصت ہو رہے ہوں گے اور دوسری حیات کا آغاز ہو رہا ہوگا۔ اور اس نئی زندگی کا آغاز یوں ہو رہا ہے کہ فرشتے ان کے منہ پر بڑی بےدردی سے تھپڑ مار رہے ہیں اور چوتڑوں پر ڈنڈے رسید کر رہے ہیں۔ حالانکہ بذات خود موت کا وقت نہایت ہی درد ناک ہوتا ہے۔ خوف اور کرب کا وقت ہوتا ہے۔ لیکن یہ چونکہ الٹے پاؤں پھرے ہیں اس لیے ان کو چوتڑوں پر سزا مل رہی ہے۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔