وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ash-Shu'ara ۱۸۰:۲۶

۱۸۰:۲۶
وما اسالكم عليه من اجر ان اجري الا على رب العالمين ١٨٠
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٨٠
وَمَآ
أَسۡـَٔلُكُمۡ
عَلَيۡهِ
مِنۡ
أَجۡرٍۖ
إِنۡ
أَجۡرِيَ
إِلَّا
عَلَىٰ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٨٠
و من بر (رساندن) این (دعوت) هیچ مزدی از شما نمی‌طلبم، مزد من تنها بر (عهدۀ) پروردگار جهانیان است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 26:176 تا 26:180

درس نمبر 168 تشریح آیات

176……تا……191

کذب اصحب……رب العلمین (180)

یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔

ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔