وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Ash-Shu'ara ۱۳۳:۲۶

۱۳۳:۲۶
امدكم بانعام وبنين ١٣٣
أَمَدَّكُم بِأَنْعَـٰمٍۢ وَبَنِينَ ١٣٣
أَمَدَّكُم
بِأَنۡعَٰمٖ
وَبَنِينَ
١٣٣
شما را به چهارپایان و فرزندان مدد (و یاری) فرموده است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 26:132 تا 26:135

واتقوا ……عظیم (135)

حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا رہ تھے نہایت والہانہ انداز میں۔ کیونکہ عذاب ان کو بصیرت نبوت کے ذریعے یقینی نظر آ رہا تھا۔

لیکن ان کی یہ مشفقانہ نصیحت اور ڈر اواہن کے دلوں پر اثر نہ کر رہا تھا جو بہت ہی سخت ہوگئے تھے اور عناد اور سرکشی پر تلے ہوئے تھے۔