وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Taha ۶۱:۲۰

۶۱:۲۰
قال لهم موسى ويلكم لا تفتروا على الله كذبا فيسحتكم بعذاب وقد خاب من افترى ٦١
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍۢ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ ٱفْتَرَىٰ ٦١
قَالَ
لَهُم
مُّوسَىٰ
وَيۡلَكُمۡ
لَا
تَفۡتَرُواْ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبٗا
فَيُسۡحِتَكُم
بِعَذَابٖۖ
وَقَدۡ
خَابَ
مَنِ
ٱفۡتَرَىٰ
٦١
موسی به آن‌ها گفت: «وای بر شما! بر الله دروغ نبندید، که شما را با عذابی نابود می‌سازد، و یقیناً کسی‌که (بر الله) افترا بندد، ناکام (و ناامید) می‌شود»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قال لھم ……من افتری (16)

دل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے۔ نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا اثر بعض جادوگروں پر ہوا تھا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہایت ہی اخلاص اور دلسوزی سے ادا کئے تھے۔ اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس قدر پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے میں اصرار کر رہے تھے اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس اقدام پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے پر اصرار کر رہے تھے انہوں نے دوسروں کے ساتھ جھگڑنا شروع کردیا لیکن سرگوشی کی شکل میں تاکہ موسیٰ نہ سن سکے۔