وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Taha ۲۸:۲۰

۲۸:۲۰
يفقهوا قولي ٢٨
يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى ٢٨
يَفۡقَهُواْ
قَوۡلِي
٢٨
تا سخنانم را بفهمند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:25 تا 20:29

قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”

اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔

انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔