وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۶۹:۱۲
ولما دخلوا على يوسف اوى اليه اخاه قال اني انا اخوك فلا تبتيس بما كانوا يعملون ٦٩
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٦٩
وَلَمَّا
دَخَلُواْ
عَلَىٰ
يُوسُفَ
ءَاوَىٰٓ
إِلَيۡهِ
أَخَاهُۖ
قَالَ
إِنِّيٓ
أَنَا۠
أَخُوكَ
فَلَا
تَبۡتَئِسۡ
بِمَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
٦٩
و چون (برادران) بر یوسف وارد شدند، برادرش (بنیامین) را نزد خود جای داد، (و) گفت: «بدون شک من برادر تو (یوسف) هستم، پس از آنچه آن‌ها انجام می‌دادند، اندوهگین مباش».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

مناسب یہ ہے کہ ہم اس وصیت اور اس سفر کو اسی طرح لکھیں جس طرح قرآن کریم نے اسے لیا ہے۔ اب برادران یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اگلے منظر میں ہم یوں ملتے ہیں :

آیت نمبر 69

اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حقیقی بھائی کی ملاقات جلدی سے کرا دی جاتی ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی تمہید کے بغیر بھائی کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ میں تمہارا بھائی یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ مشورہ بھی ان کو دیتے ہیں کہ دوسرے بھائیوں نے ان کے ساتھ اس سے قبل جو سلوک کیا اس کو بھول جائیں۔ ماضی کی پریشان کن یادیں بہرحال کسی شخص کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ چونکہ کنعان میں اسی خاندان میں رہتے تھے جن میں یہ واقعات رونما ہوئے تھے تو لازماً یہ ان کے لئے ہر وقت پریشان کن تھے اور تکلیف دہ تھے۔

سیاق کلام نے کیوں اس بات کو پہلے بیان کردیا ؟ حالانکہ قدرتی امر یہ ہے کہ برادران کے درمیان یہ مکالمہ عین اس وقت نہ ہوا ہوگا جب یہ وفد حضرت یوسف (علیہ السلام) حاکم مصر سے ملا ہوگا ، بلکہ یہ اس وقت ہوا ہوگا جب یوسف (علیہ السلام) اور ان کے جھوٹے بھائی تنہا ہوئے ہوں گے۔ ہاں جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملے ہوں گے اور انہوں نے اس طویل جدائی کے بعد اپنے بھائی کو دیکھا ہوگا تو ان کے دل میں یہ خیال سب سے پہلے آگیا ہوگا کہ میں بھائی کو یہ اطلاع کردوں۔

یہ چونکہ پہلا خیال تھا اس لئے اس منظر میں اسے خیال یوسف (علیہ السلام) کی شکل میں دے دیا گیا اور یہ قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اور خوبصورت اسلوب بیان ہے اور اس سے لطف اندوز وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو کلام کی فنی باریکیوں کو جانتے ہیں۔

اس منظر میں بھی بعض واقعات کے بیان کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے کاٹ دیا جاتا ہے۔ مثلاً برادران یوسف (علیہ السلام) کی مہمانداری اور اس دوران ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ، اور برادران یوسف (علیہ السلام) کی روانگی کا منظر لے لیا جاتا ہے۔ اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے ہاں روکنے کے لئے ایک خاص تدبیر کرتے ہیں تا کہ ان کے بھائیوں کو سبق دیا جائے بلکہ بہت سے سبق دئیے جائیں جو ان کے لئے ضروری تھے اور قیامت تک آنے والے لوگ بھی اس سے عبرت لیتے ہیں۔ چناچہ اس تدبیر کو ابدی کتاب کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

با قرآن در ارتباط باشید❤️

یادآوری‌های کوتاه و معنادار برای شروع مجدد، تأمل و ارتباط با قرآن.

قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
اهدا کنید
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است
مشارکت