وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱:۱۲
الر تلك ايات الكتاب المبين ١
الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ ١
الٓرۚ
تِلۡكَ
ءَايَٰتُ
ٱلۡكِتَٰبِ
ٱلۡمُبِينِ
١
الر (الف. لام. را) این آیات کتاب روشنگر است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:1 تا 12:3

قرآن اگرچہ ساری دنیا کی ہدایت کے لیے آیاہے۔ تاہم اس کے مخاطبِ اوّل عرب تھے۔ اس لیے وہ عربی زبان میں اترا۔ اب اس پر ایمان لانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو ہر زبان میں منتقل کریں۔ اور ا س کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچائیں۔

قرآن کی تعلیمات قرآن میں مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کی گئی ہیں۔ کہیں وہ کائناتی استدلال کی زبان میں ہیں، کہیں انذار اور تبشیر کی زبان میں اور کہیں تاریخ کی زبان میں۔ سورہ یوسف میں یہ پیغام حضرت یوسف کے قصہ کی شکل میں سامنے لاياگیا ہے۔ اس سورہ میں اہل ایمان کو ایک پیغمبر کی سرگزشت کی صورت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ حق کے لیے اٹھنے والوں کی مدد کرتاہے۔ اور مخالفین کی تمام سازشوں کے باوجود بالآخر ان کو کامیاب کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اہلِ ایمان کہ اندر تقویٰ اور صبر کی صفت موجود ہو۔ یعنی وہ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ہر حال میں حق کے راستے پر جمے رہیں۔