Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Sád Ayah 76

38:76
قال انا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين ٧٦
قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ ٧٦
قَالَﲻ
أَنَا۠ﲼ
خَيۡرٞﲽ
مِّنۡهُﲾ
خَلَقۡتَنِيﲿ
مِنﳀ
نَّارٖﳁ
وَخَلَقۡتَهُۥﳂ
مِنﳃ
طِينٖﳄ
٧٦ﳅ
Dijo [Iblís]: “Yo soy superior a él. A mí me creaste de fuego, mientras que a él lo creaste de barro”.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 38:71 hasta 38:78

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی اعلیٰ مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ اور اس کی علامت کے طور پر فرشتوں اور جنوں کو حکم دیاکہ وہ اس کو سجدہ کریں۔ اس کے بعد جب ایسا ہوا کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو وہ ہمیشہ کےلیے ملعون قرار پاگیا۔ مگر اس سنگین واقعہ کی اہمیت صرف ابلیس کے اعتبار سے نہ تھی بلکہ خود آدم کےلیے بھی اس کی بے حد اہمیت تھی۔

آدم کے آگے جھکنے سے انکار کرکے ابلیس ابدی طور پر نسلِ آدم کا حریف بن گیا۔ اس طرح انسانی تاریخ اول روز سے ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ اس واقعہ نے طے کر دیا کہ انسان کےلیے زندگی کا سفر کوئی سادہ سفر نہیں ہوگا بلکہ شدید مزاحمت کا سفر ہوگا۔ اس کو ابلیس کے بہکاؤں اور اس کی پرفریب تدبیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحیح راستہ پر قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

انسان اور جنت کے درمیان شیطان کی فریب کاریاں حائل ہیں۔ جو شخص شیطان کی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو بچائے وہی جنت کے ابدی باغوں میں داخل ہوگا۔ اور جو لوگ شیطان کی فریب کاریوں کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت سے محروم رہ گئے۔