Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma
40:67
هو الذي خلقكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم يخرجكم طفلا ثم لتبلغوا اشدكم ثم لتكونوا شيوخا ومنكم من يتوفى من قبل ولتبلغوا اجلا مسمى ولعلكم تعقلون ٦٧
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًۭا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًۭا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًۭا مُّسَمًّۭى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ٦٧
هُوَ
ٱلَّذِي
خَلَقَكُم
مِّن
تُرَابٖ
ثُمَّ
مِن
نُّطۡفَةٖ
ثُمَّ
مِنۡ
عَلَقَةٖ
ثُمَّ
يُخۡرِجُكُمۡ
طِفۡلٗا
ثُمَّ
لِتَبۡلُغُوٓاْ
أَشُدَّكُمۡ
ثُمَّ
لِتَكُونُواْ
شُيُوخٗاۚ
وَمِنكُم
مَّن
يُتَوَفَّىٰ
مِن
قَبۡلُۖ
وَلِتَبۡلُغُوٓاْ
أَجَلٗا
مُّسَمّٗى
وَلَعَلَّكُمۡ
تَعۡقِلُونَ
٦٧
Él es Quien los creó del polvo[1], y después[2] de un óvulo fecundado que se transforma en un embrión, luego los hace surgir [al mundo] como niños para que alcancen la madurez, y luego los hace llegar a ancianos, aunque algunos fallecen antes, y así se cumple el plazo de vida que se les había prefijado para que reflexionen. 1
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith

آیت 67 { ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } ”وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے“ عَلَقَہکے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ّہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ -۔ -۔ -۔ لفظ ”عَلَقَہ“ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی آیت 14 کی تشریح۔ { ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا } ”پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے“ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ } ”پھر تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی کو“ { ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا } ”پھر تمہیں مزید عمر دیتا ہے تاکہ تم ہو جائو بوڑھے۔“ یعنی حیات انسانی کا دورانیہ life cycle عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔ { وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ } ”اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے“ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہوجاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔ { وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ ”اور بعض کو مہلت دیتا ہے تاکہ تم ایک وقت معین ّکو پہنچ جائو اور یہ اس لیے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے ‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پالے ‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔