Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An’ám Ayah 52

6:52
ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شيء وما من حسابك عليهم من شيء فتطردهم فتكون من الظالمين ٥٢
وَلَا تَطْرُدِ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍۢ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَىْءٍۢ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٥٢
وَلَاﳀ
تَطۡرُدِﳁ
ٱلَّذِينَﳂ
يَدۡعُونَﳃ
رَبَّهُمﳄ
بِٱلۡغَدَوٰةِﳅ
وَٱلۡعَشِيِّﳆ
يُرِيدُونَﳇ
وَجۡهَهُۥۖﳈﳉ
مَاﳊ
عَلَيۡكَﳋ
مِنۡﳌ
حِسَابِهِمﳍ
مِّنﳎ
شَيۡءٖﳏ
وَمَاﳐ
مِنۡﳑ
حِسَابِكَﳒ
عَلَيۡهِمﳓ
مِّنﳔ
شَيۡءٖﳕ
فَتَطۡرُدَهُمۡﳖ
فَتَكُونَﳗ
مِنَﳘ
ٱلظَّٰلِمِينَﳙ
٥٢ﳚ
No rechaces a quienes invocan a su Señor por la mañana y por la tarde anhelando Su rostro. A ti no te corresponde pedirles cuentas de sus obras ni a ellos tampoco pedirte cuentas de las tuyas, porque serías de los injustos.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 6:51 hasta 6:53

نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کار گر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو خطرے سے آگاہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔

بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طورپر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، دنیا پرستی، دوسري اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یادنیا کی کوئی کامیابی پاکر اس پر مطمئن ہوگئے ہوں، حتی کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکر خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیزنہیں سمجھتے۔ اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میںاپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کامزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیںکہ جن بڑوں کے ساتھ انھوںنے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مدد گار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوںنے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ خدا کے محبوب ومقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنادیتی ہے، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کہ لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی هو۔

جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت ومقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیوں کہ حق کا ساتھ دينا ان کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان كے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرالیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔