Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma
59:2
هو الذي اخرج الذين كفروا من اهل الكتاب من ديارهم لاول الحشر ما ظننتم ان يخرجوا وظنوا انهم مانعتهم حصونهم من الله فاتاهم الله من حيث لم يحتسبوا وقذف في قلوبهم الرعب يخربون بيوتهم بايديهم وايدي المومنين فاعتبروا يا اولي الابصار ٢
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن دِيَـٰرِهِمْ لِأَوَّلِ ٱلْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا۟ ۖ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۟ ۖ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى ٱلْمُؤْمِنِينَ فَٱعْتَبِرُوا۟ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ ٢
هُوَ
ٱلَّذِيٓ
أَخۡرَجَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
مِنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡكِتَٰبِ
مِن
دِيَٰرِهِمۡ
لِأَوَّلِ
ٱلۡحَشۡرِۚ
مَا
ظَنَنتُمۡ
أَن
يَخۡرُجُواْۖ
وَظَنُّوٓاْ
أَنَّهُم
مَّانِعَتُهُمۡ
حُصُونُهُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
فَأَتَىٰهُمُ
ٱللَّهُ
مِنۡ
حَيۡثُ
لَمۡ
يَحۡتَسِبُواْۖ
وَقَذَفَ
فِي
قُلُوبِهِمُ
ٱلرُّعۡبَۚ
يُخۡرِبُونَ
بُيُوتَهُم
بِأَيۡدِيهِمۡ
وَأَيۡدِي
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
فَٱعۡتَبِرُواْ
يَٰٓأُوْلِي
ٱلۡأَبۡصَٰرِ
٢
Él es Quien hizo que los que se negaron a creer de la Gente del Libro[1] abandonaran sus hogares en el primer destierro. Ustedes no creían que ellos saldrían, y ellos pensaban que sus fortalezas los protegerían de Dios. Pero Dios los sorprendió de donde menos lo esperaban. Infundió terror en sus corazones, y comenzaron a destruir sus casas con sus propias manos y con las manos de los creyentes. Reflexionen sobre ello, ¡oh, gente que razona! 1
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 59:1 hasta 59:2

مدینہ کے مشرق میں یہودی قبیلہ بنو نضیر کی آبادی تھی۔ ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ مگر انہوں نے بار بار عہد شکنی کی۔ آخر کار 4 ھ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمانوں نے ان کو مدینہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد وہ خیبر اور شام كے علاقے میں جا کر آباد ہوگئے۔ مگر ان کی سازشی سرگرمیاں جاري رہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں وہ اور دوسرے یہودی قبائل جزیرهٔ عرب سے نکلنے پر مجبور کردیے گئے۔ اس کے بعد وہ لوگ شام میں جا کر آباد ہوئے۔

’’اللہ ان پر وہاں سے پہنچا جہاں ان کو گمان بھی نہ تھا‘‘ کی تشریح اگلے فقرہ میں موجود ہے۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ انہوں نے بیرونی طور پر ہر قسم کی تیاریاں کیں۔ مگر جب مسلمانوں کی فوج نے ان کی آبادی کو گھیر لیا تو ساری طاقت کے باوجود ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ انہوں نے لڑنے کا حوصلہ کھودیا۔ اور بلا مقابلہ ہتھیار ڈال دیا۔