Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Al-Qiyáma 75:6

75:6
يسال ايان يوم القيامة ٦
يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَـٰمَةِ ٦
يَسۡـَٔلُ
أَيَّانَ
يَوۡمُ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
٦
Y pregunta [burlonamente]: “¿Cuándo será el día de la Resurrección?”
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 75:5 hasta 75:6

بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں اور فسق وفجور کی بندشوں کو بلا روک وٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

قیامت کے قوع کے بارے میں ہٹ دھرمی اور اسے مستبعد سمجھنے کا جواب یہاں نہایت شتابی کے ساتھ ، فیصلہ کن انداز میں دیا گیا اور یوں دیا گیا کہ اس میں شک ہی نہ رہے۔ اس جواب میں انسانی حواس ، انسانی شعور اور کائناتی مشاہد پیش کیے گئے۔