Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma
64:12
واطيعوا الله واطيعوا الرسول فان توليتم فانما على رسولنا البلاغ المبين ١٢
وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ ١٢
وَأَطِيعُواْ
ٱللَّهَ
وَأَطِيعُواْ
ٱلرَّسُولَۚ
فَإِن
تَوَلَّيۡتُمۡ
فَإِنَّمَا
عَلَىٰ
رَسُولِنَا
ٱلۡبَلَٰغُ
ٱلۡمُبِينُ
١٢
Obedezcan a Dios y obedezcan al Mensajero. Pero si se rehúsan, sepan que Mi Mensajero solo tiene la obligación de transmitir el Mensaje con claridad.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith

آیت 12{ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ } ”اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی۔“ { فَاِنْ تَوَلَّــیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ۔ } ”پھر اگر تم نے پیٹھ موڑ لی تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔“ اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے احکام لوگوں تک پہنچا کر اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ ان احکام کے بارے میں اب ہر کوئی خود جواب دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کے مقابلے میں اب کسی انسان کی دلیل بازی نہیں چلے گی۔ جیسے سود کی حرمت کا حکم سن کر بعض لوگوں نے کہا تھا : { اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7} کہ کاروبار کا منافع بھی تو ربا سود ہی کی مانند ہے ! ایسے لوگوں کو واضح طور پر بتادیا گیا کہ : { وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط } البقرۃ : 275 کہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ اب بھلا تم کون ہو اللہ کے واضح حکم کے بعد اپنی منطق بگھارنے والے ؟ اگر تم اللہ کو مانتے ہو ‘ اس کے رسول ﷺ کو مانتے ہو ‘ اس کے قرآن کو مانتے ہو تو پھر اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور قرآن کے احکامات کے مقابلے میں تمہاری کوئی دلیل نہیں چلے گی۔ تمہیں سب احکام بےچون و چرا تسلیم کرنے ہوں گے۔ بقولِ اکبر الٰہ آبادی : ؎رضائے حق پر راضی رہ ‘ یہ حرفِ آرزو کیسا !خدا خالق ‘ خدا مالک ‘ خدا کا حکم ‘ تو کیسا ؟اور اگر نہیں مانتے ہو تو سیدھی طرح اقرار کرو کہ ہم نہیں مانتے۔ بس تمہارے پاس یہی دو راستے ہیں ‘ یا تو اطاعت و فرمانبرداری کی روش اپنائو یا پھر اس کے در سے اٹھ کر چلے جائو ! either obey or go away۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔