Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma
20:11
فلما اتاها نودي يا موسى ١١
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ يَـٰمُوسَىٰٓ ١١
فَلَمَّآ
أَتَىٰهَا
نُودِيَ
يَٰمُوسَىٰٓ
١١
Cuando llegó a él, una voz lo llamó: “¡Oh, Moisés!
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 20:11 hasta 20:16

حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس وقت تم خدا سے ہم کلام ہو اور خدا نے تم کو اپنی پیغمبری کے لیے چنا ہے۔

اس وقت حضرت موسیٰ کو جو تعلیم دی گئی وہ وہی تھی جو تمام پیغمبروں کو ہمیشہ تعلیم کی گئی ہے۔ یعنی ایک خدا کو معبود بنانا۔ اسی کی عبادت کرنا۔ اسی کو ہر موقع پر یاد رکھنا۔ پھر حضرت موسیٰ کو زندگی کی اس حقیقت کی خبر دی گئی کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ ایک خاص مدت تک کے لیے خدا نے حقیقتوں کو غیب میں چھپا دیا ہے۔ قیامت میں یہ پردہ پھٹ جائے گا۔ اس کے بعد انسانی زندگی کا اگلا دور شروع ہوگا جس میں ہر آدمی اس عمل کے مطابق مقام پائے گا جو اس نے موجودہ دنیا میں کیا تھا۔

جب ایک آدمی پر خواہشوں کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ آخرت سے بے پروا ہو کر دنیا کے راستوں میںچل پڑتا ہے تو وہ اپنے اس فعل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے نظریات وضع کرتا ہے۔ وہ اپنی روش کو خوب صورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اس کو سن کر دوسرے لوگ بھی آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔