Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Insaan 76:5

76:5
ان الابرار يشربون من كاس كان مزاجها كافورا ٥
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍۢ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ٥
إِنَّ
ٱلۡأَبۡرَارَ
يَشۡرَبُونَ
مِن
كَأۡسٖ
كَانَ
مِزَاجُهَا
كَافُورًا
٥
Sesungguhnya orang-orang yang berbakti (dengan taat dan kebajikan), akan meminum dari piala: sejenis minuman yang bercampur dengan "Kafur", -
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 76:5 hingga 76:6

ان الابرار .................................... تفجیرا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں بہت خوش ذائقہ ہوگی اور اس کی لذت اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تو درحقیقت قریب الفہم بنانے کے لئے ان اصطلاحات کے اندر کہا جارہا تھا تاکہ لوگ سمجھ سکیں ورنہ جنت کی نعمتیں عالم غیب میں ہیں۔ ان کا صحیح تصور اور ان کی تصحیح تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔

اہل جنت کو پہلی آیت میں الابرار کہا گیا ہے اور دوسری میں عباد اللہ کہا گیا ہے۔ یہ محض قرب و محبت کے اظہار کے لئے اور فضل وکرم کے اعلان کے لئے ہے اللہ کے یہ بندے اللہ کے قریب ہوں گے۔ اور ان کے اوصاف اور خدوخال یہ ہوں گے :