Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Najm 53:49

53:49
وانه هو رب الشعرى ٤٩
وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعْرَىٰ ٤٩
وَأَنَّهُۥ
هُوَ
رَبُّ
ٱلشِّعۡرَىٰ
٤٩
Dan bahawa sesungguhnya, Dia lah Tuhan (Pencipta) "Bintang Syikra;
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

وانہ ........ الشعری (35 : 94) ” اور وہی شعری کا بھی رب ہے “ شعری وہ ستارہ ہے جو سورج سے بیس گناہ بڑا ہے اور ورہ سورج سے بھی دور کئی ملین دور ہے۔ عربوں میں بعض لوگ اس ستارے کو پوجتے تھے۔ بعض لوگ اسے ایک ذی شان ستارے کے طور پر دیکھتے تھے۔ لہٰذا یہاں یہ تاکید کرنا کہ اللہ شعری کا بھی رب ہے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے خصوصاً ایسی سورت میں جس میں ستارے کی قسم اٹھائی گئی ہے اور جس میں عالم بالا کے سفر کا ذکر ہو اور جس میں عقیدہ توحید اور شرک موضوع ہو۔

یہاں آکر انفس اور آفاق کا یہ طویل مطالعاتی سفر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعد اب انسانی تاریخ کی وادی میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ اور اس کے عبرت آموز آثار کو تو قرآن بہت اہمیت دیتا ہے۔