تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٢١:٣٧

٢١:٣٧
هاذا يوم الفصل الذي كنتم به تكذبون ٢١
هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢١
هَٰذَا
يَوۡمُ
ٱلۡفَصۡلِ
ٱلَّذِي
كُنتُم
بِهِۦ
تُكَذِّبُونَ
٢١
فيقال لهم: هذا يوم القضاء بين الخلق بالعدل الذي كنتم تكذبون به في الدنيا وتنكرونه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ھذا یوم ۔۔۔۔ بہٖ تکذبون (21) ” “۔ ان یہاں انداز کلام ” بیانی “ اور ” خبری “ سے بدل کر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیت کرتے تھے۔ ایک سخت حکم ہے جو ان کے کانوں سے بڑی سختی سے ٹکراتا ہے ۔ فیصلہ کن انداز میں ۔ اور اس کے بعد ردئے سخن اللہ کے کارندوں کی طرف