ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา

ตัฟซีร: Al-Baqarah 2:10

2:10
في قلوبهم مرض فزادهم الله مرضا ولهم عذاب اليم بما كانوا يكذبون ١٠
فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضًۭا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ ١٠
فِي
قُلُوبِهِم
مَّرَضٞ
فَزَادَهُمُ
ٱللَّهُ
مَرَضٗاۖ
وَلَهُمۡ
عَذَابٌ
أَلِيمُۢ
بِمَا
كَانُواْ
يَكۡذِبُونَ
١٠
[10] ในหัวใจของพวกเขามีโรคอย่างหนึ่ง แล้วอัลลอฮฺได้ทรงเพิ่มโรคอีกอย่างหนึ่ง ให้แก่พวกเขา และพวกเขาจะได้รับการลงโทษอันเจ็บแสบเนื่องจากการที่พวกเขากล่าวเท็จ
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ

لیکن سوال یہ ہے کہ منافقین یہ حرکت کیوں کرتے ہیں ۔ روش نفاق اختیار کرکے وہ مومنین کو یہ دھوکہ کیوں دینا چاہتے ہیں ؟ اس لئے کہ فِی قُلُوبِھِم مَّرَضٌ” ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ “ ان کے دلوں کو یہ روگ لگ گیا ہے ۔ دماغوں پر یہ آفت آن پڑی ہے اور یہ انہیں حق کی راہ مستقیم پر چلنے نہیں دیتی ۔ اس کی وجہ سے وہ پھر اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ان کے اس روگ کو اور زیادہ کردے فَزَادَھُمُ اللہ ُ مَرَضًا ” ان کی اس بیماری کو اللہ نے اور بڑھادیا۔ “ ظاہر ہے کہ ایک بیماری دوسری کو جنم دیتی ہے ۔ گمراہی ابتداء میں نہایت معمولی ہوتی ہے اور جونہی اس کے خطوط وحدود آگے بڑھتے ہیں اس کا زاویہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون قدر ہے ، جو ہر جگہ جاری وساری ہے ۔ یہ قانون فطرت انسانی سوچ اور طرز عمل تمام چیزوں اور تمام حالات میں جاری ہے ۔ وہ خود ایک معلوم ومعروف انجام کی طرف چلے جارہے ہیں ۔ وہ انجام جو ان سب لوگوں کے لئے مقدور ہے جو اللہ اور مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ۔ وَ لَہُم عَذَابٌ اَلِیمٌم بِمَا کَانُوا یَکذِبُون ” یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس کی پاداش میں ان کے لئئے دردناک عذاب ہے ۔ “ ان کی اہم صفات میں سے یہ دوسری صفت ہے ، بالخصوص ان لوگوں کی جو ان میں سرکردہ تھے اور ہجرت رسول ﷺ سے قبل اپنی قوم اور قبیلے میں سرداری کے مناسب پر فائز تھے مثلاً عبداللہ ابن ابی ابن سلول ۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مومنین کے خلاف دل میں گہراکینہ رکھتے تھے اور جو فتنہ و فساد برپا کرتے تھے اس کے لئے تاویلیں پیش کرتے اور اپنے ان کارناموں پر ہر قسم کی سزا ومواخذہ سے بچ کر پھولے نہ سماتے ۔