登入
登入
登入
选择语言

经注: Yusuf 12:63

12:63
فلما رجعوا الى ابيهم قالوا يا ابانا منع منا الكيل فارسل معنا اخانا نكتل وانا له لحافظون ٦٣
فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ٦٣
فَلَمَّا
رَجَعُوٓاْ
إِلَىٰٓ
أَبِيهِمۡ
قَالُواْ
يَٰٓأَبَانَا
مُنِعَ
مِنَّا
ٱلۡكَيۡلُ
فَأَرۡسِلۡ
مَعَنَآ
أَخَانَا
نَكۡتَلۡ
وَإِنَّا
لَهُۥ
لَحَٰفِظُونَ
٦٣
他们回去见了他们的父亲,说:我们的父亲啊!人家不准我们再籴粮了,请你派我们的弟弟和我们一同去,我们就能籴粮;我们一定把他保护好。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

اب حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں رہ جاتے ہیں اور کنعان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور برادران یوسف (علیہ السلام) منظر پر ہیں۔ ان کی واپسی کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔

آیت نمبر 63 تا 66

معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیدھے باپ کے سلام کو حاضر ہوئے۔ سامان کھولنے سے بھی پہلے انہوں نے باپ کو یہ بتانا ضروری خیال کیا کہ ہمارے بارے میں تو فیصلہ کردیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے چھوٹے بھائی کو عزیر مصر کے سامنے پیش نہ کریں گے ہمیں مزید کوئی غلہ نہ دیا جائے گا۔ چناچہ پہنچتے ہی انہوں نے باپ سے مطالبہ شروع کردیا کہ چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجیں تا کہ ایک اونٹ بار غلہ بھی مل جائے اور وہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔

فلما رجعوا الی ۔۔۔۔۔۔ لحفظون (12 : 63) “ جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا “ اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تا کہ ہم غلہ لے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں ”۔ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خفیہ خدشات سامنے آجاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی انہوں نے ایسا ہی پختہ عہد کیا تھا۔ چناچہ آپ اپنے درد کا اظہار کردیتے ہیں۔