Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ
52:21
والذين امنوا واتبعتهم ذريتهم بايمان الحقنا بهم ذريتهم وما التناهم من عملهم من شيء كل امري بما كسب رهين ٢١
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـٰنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَـٰهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍۢ ۚ كُلُّ ٱمْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌۭ ٢١
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ
ذُرِّيَّتُهُم
بِإِيمَٰنٍ
أَلۡحَقۡنَا
بِهِمۡ
ذُرِّيَّتَهُمۡ
وَمَآ
أَلَتۡنَٰهُم
مِّنۡ
عَمَلِهِم
مِّن
شَيۡءٖۚ
كُلُّ
ٱمۡرِيِٕۭ
بِمَا
كَسَبَ
رَهِينٞ
٢١
Những ai có đức tin và con cháu của họ cùng theo họ trong đức tin sẽ được TA cho đoàn tụ với họ (trong Thiên Đàng). TA sẽ không cắt giảm bất cứ thứ gì (từ phần thưởng) cho việc làm (thiện tốt) của họ. Mỗi con người phải chịu trách nhiệm cho những gì mình đã làm.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت 21{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ } ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو“ قبل ازیں اس مضمون کا ذکر سورة المومن میں حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتوں کی دعا کے ضمن میں بھی آچکا ہے۔ وہ اللہ کے حضور مومنین کے لیے یوں دعا کر رہے ہوں گے : { رَبَّـنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اے ہمارے پروردگار ! انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو یقینا زبردست ہے ‘ کمالِ حکمت والا ہے“۔ اب زیرمطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے اس کریمانہ فیصلے کا خود اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم اہل جنت کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ یعنی نچلے درجے کی جنت کے مستحق افراد کو بھی ان کے والدین کے برابر لے آئیں گے جو اعلیٰ درجات کی جنتوں میں متمکن ہوں گے۔ { وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ ط } ”اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔“ یعنی اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنت میں ہے اور اس کے اہل و عیال نسبتاً نچلے درجے میں ہیں تو یہ نہیں ہوگا کہ اس شخص کو اس کے اہل و عیال کے پاس نچلے درجے میں بھیج دیا جائے بلکہ اس کے اہل و عیال کے درجات بلند کر کے اس کے برابر کردیا جائے گا۔ گویا اہل جنت کے اکرام کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہوگا کہ ان کے رشتے داروں میں سے جو کوئی کم سے کم درجے کی جنت کا بھی مستحق ہوجائے گا اسے ترقی دے کر ان کے اعلیٰ جنتوں والے رشتے داروں سے ملا دیا جائے گا تاکہ انہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔ { کُلُّ امْرِیٍٔ م بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ۔ } ”ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہوگا۔“