Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Ash-Shuará 26:164

26:164
وما اسالكم عليه من اجر ان اجري الا على رب العالمين ١٦٤
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٦٤
وَمَآ
أَسۡـَٔلُكُمۡ
عَلَيۡهِ
مِنۡ
أَجۡرٍۖ
إِنۡ
أَجۡرِيَ
إِلَّا
عَلَىٰ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٦٤
No les pido remuneración a cambio [de transmitirles el Mensaje]. Mi recompensa me la dará el Señor del Universo.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 26:160 hasta 26:164

درس نمبر 167 تشریح آیات

160…………تا ……………175

کذبت قوم ……رب العلمین (140)

قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔

حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔

اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔