Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Ash-Shuará 26:154

26:154
ما انت الا بشر مثلنا فات باية ان كنت من الصادقين ١٥٤
مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ١٥٤
مَآ
أَنتَ
إِلَّا
بَشَرٞ
مِّثۡلُنَا
فَأۡتِ
بِـَٔايَةٍ
إِن
كُنتَ
مِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
١٥٤
y eres un ser humano igual que nosotros. Tráenos una prueba [milagrosa de tu profecía], si es que dices la verdad”.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 26:153 hasta 26:159

پیغمبر جس قوم میں اٹھتاہے وہ کوئی لامذہب قوم نہیں ہوتی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مذہبی قوم ہوتی ہے۔ مگر یہ مذہب اس کے بزرگوں کا مذہب ہوتاہے اور پیغمبر خدا کا مذہب پیش کرتا ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں کے طریقے کو مقدس سمجھ کر اس پر قائم ہوں وہ کبھی کسی دوسرے طریقے کی اہمیت نہیں سمجھ پاتے، خواہ وہ ان کے پیغمبر کی زبان سے کیوں نہ پیش کیا جائے۔ بزرگوں کے طریقے سے انحراف قوم کی نظر میں اتنا سخت تھا کہ اس نے حضرت صالح کو دیوانہ قرار دے دیا۔ یہ کشمکش لمبی مدت تک جاری رہی۔ آخر انھوں نے مطالبہ کیا کہ کوئی معجزہ دکھاؤ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک معجزہ ظاہر ہوا۔ جو بیک وقت معجزہ بھی تھا اور قوم کے حق میں خدا کی عدالت بھی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو خرق عادت کے طورپر ظہور میں آئی۔ حضرت صالح نے کہا کہ یہ خدا کی اونٹنی ہے۔ یہ تمھارے کھیتوں اور باغوں میں آزادانہ طورپر گھومے گی اور پانی کا گھاٹ ایک دن صرف اس کے ليے خاص ہوگا۔ قوم نے کچھ دن تک اس اونٹنی کو برداشت کیا اس کے بعد اس کے ایک سرکش آدمی نے اس کو مار ڈالا۔ اس کے صرف تین دن کے بعد پوری قوم شدید زلزلہ سے ہلاک کردی گئی۔

اونٹنی کو ہلاک کرنے کا جرم قوم کے ایک شخص نے کیا تھا مگر جمع کے صیغہ میں فرمایا کہ انھوںنے اس کو ہلاک کرڈالا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہلاک کرنے کے وقت نہ تو قوم کے لوگوں نے اسے روکا اور نہ بعد کو اپنے اس آدمی کو بُرا کہا۔ سارے لوگ اس کی حمایت میں حضرت صالح کے خلاف بولتے رہے۔ ہلاک کرنے والے نے اگر اپنے ہاتھ سے جرم کیا تھا تو بقیہ لوگ دل اور زبان سے اس کے ساتھ شریکِ جرم تھے۔ اس ليے خدا کی نظر میں سب کے سب مجرم قرار پائے۔