سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:108

26:108
فاتقوا الله واطيعون ١٠٨
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ١٠٨
فَاتَّقُوا
اللّٰهَ
وَاَطِیْعُوْنِ
۟ۚ
پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:108 سے 26:110 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 108 فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ”واضح رہی کہ رسول علیہ السلام کی دعوت کے ہمیشہ دو حصے رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ہے : فَاتَّقُوا اللّٰہَ یا اعْبُدُوا اللّٰہَ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یا اللہ کی بندگی کرو ! اور دوسرا حصہ ہے : وَاَطِیْعُوْنِکہ میرا حکم مانو ‘ میری اطاعت کرو ! اس لیے کہ رسول علیہ السلام کی شخصی اطاعت لازم ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 64 میں فرمایا گیا : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول علیہ السلام کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے“۔ اس سورة مبارکہ میں یہ نکتہ ہر رسول کے حوالے سے بار بار دہرایا گیا ہے۔