تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يوسف ٩١:١٢

٩١:١٢
قالوا تالله لقد اثرك الله علينا وان كنا لخاطيين ٩١
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَـٰطِـِٔينَ ٩١
قَالُواْ
تَٱللَّهِ
لَقَدۡ
ءَاثَرَكَ
ٱللَّهُ
عَلَيۡنَا
وَإِن
كُنَّا
لَخَٰطِـِٔينَ
٩١
قالوا: تالله لقد فَضَّلك الله علينا وأعزَّك بالعلم والحلم والفضل، وإن كنا لخاطئين بما فعلناه عمدًا بك وبأخيك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:91إلى 12:93

جب حقیقت کھل گئی تو بھائیوں نے حضرت یوسف کی بڑائی کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے طور پر اپنی غلطی کا اقرار کرلیا۔دوسری طرف حضرت یوسف نے بھی اس عالی ظرفی کا ثبوت دیا جو ایک سچے خدا پرست کو ایسے موقع پر دینا چاهيے۔ انھوںنے اپنے بھائیوں کو کوئی ملامت نہیں کی۔ انھوںنے ماضی کے تلخ واقعات کو اچانک بھلا دیا اور بھائیوں سے دوبارہ برادرانہ تعلقات استوار کر لیے۔

اِس واقعہ میں انفرادی نصرت کے ساتھ اجتماعی نصرت کی مثال بھی موجود ہے۔ اسی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوئے کہ بنی اسرائیل فلسطین سے نکل کر مصر پہنچیں اور وہاں عزت اور خوش حالی کا مقام حاصل کریں۔ چنانچہ حضرت یوسف کے زمانہ میں حضرت یعقوب کا خاندان مصر منتقل ہوگیا اور تقریباً پانچ سو سال تک وہاںعزت کے ساتھ رہا۔ بائبل کے بیان کے مطابق سب افراد خاندان جو اس موقع پر مصر گئے ان کی تعداد 67 تھی۔