تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٨٢:١٢
واسال القرية التي كنا فيها والعير التي اقبلنا فيها وانا لصادقون ٨٢
وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ٨٢
وَسۡـَٔلِ
ٱلۡقَرۡيَةَ
ٱلَّتِي
كُنَّا
فِيهَا
وَٱلۡعِيرَ
ٱلَّتِيٓ
أَقۡبَلۡنَا
فِيهَاۖ
وَإِنَّا
لَصَٰدِقُونَ
٨٢
ولما رجعوا وأخبروا أباهم بما حدث، وطلبوا منه أن يتوثق مما أخبروه قائلين: واسأل -يا أبانا- أهل «مصر» ، ومَن كان معنا في القافلة التي كنا فيها، وإنا صادقون فيما أخبرناك به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 12:80إلى 12:82

حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں میں غالباً ایک بھائی دوسروں سے مختلف تھا۔ اسی بھائی نے ابتدائی مرحلہ میں مشورہ دیا تھا کہ یوسف کوقتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی آتا جاتا قافلہ اس کو نکال لے جائے۔ یہی حال اب اس بھائی کا مصر میںہوا۔ وہ دوسرے بھائیوں سے الگ ہوگیا۔ اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جس باپ کے نزدیک وہ ایک بھائی کو کھونے کا مجرم بن چکا ہے، اسی باپ کے سامنے اب وہ دوسرے بھائی کو کھونے کا مجرم بن کر حاضر ہو۔