تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ١٠٨:١٠

١٠٨:١٠
قل يا ايها الناس قد جاءكم الحق من ربكم فمن اهتدى فانما يهتدي لنفسه ومن ضل فانما يضل عليها وما انا عليكم بوكيل ١٠٨
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍۢ ١٠٨
قُلۡ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
قَدۡ
جَآءَكُمُ
ٱلۡحَقُّ
مِن
رَّبِّكُمۡۖ
فَمَنِ
ٱهۡتَدَىٰ
فَإِنَّمَا
يَهۡتَدِي
لِنَفۡسِهِۦۖ
وَمَن
ضَلَّ
فَإِنَّمَا
يَضِلُّ
عَلَيۡهَاۖ
وَمَآ
أَنَا۠
عَلَيۡكُم
بِوَكِيلٖ
١٠٨
قل -أيها الرسول- لهؤلاء الناس: قد جاءكم رسول الله بالقرآن الذي فيه بيان هدايتكم، فمن اهتدى بهدي الله فإنما ثمرة عمله راجعة إليه، ومن انحرف عن الحق وأصرَّ على الضلال فإنما ضلاله وضرره على نفسه، وما أنا موكَّل بكم حتى تكونوا مؤمنين، إنما أنا رسول مبلِّغ أبلِّغكم ما أُرْسِلْت به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے صحیح واقعہ علم آگیا۔ الحقّ سے مراد ہے صحیح علم ‘ یعنی اللہ کی توحید وصفات اور مبدء و معاد کے احوال قرآن میں اور رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی بتا دئیے ‘ اب کسی کیلئے جہالت کا عذر باقی نہیں رہا۔ یا حق سے مراد ہے وہ (قرآن مجید یا رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت) جس کا اثبات اعجاز کے ذریعہ سے کردیا گیا اور کسی کو کوئی عذر باقی نہیں رہا۔

فمن اھتدی اب جو بھی ہدایت یاب ہو ‘ یعنی اس علم پر ایمان رکھے اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلے۔

فانما یھتدی لنفسہ خود اپنے فائدہ کیلئے ہدایت یاب ہوگا (یعنی خود اس کا فائدہ ہوگا) ۔

ومن ضل اور جو (راہ حق سے) بھٹک جائے گا ‘ انکار کرے گا۔

فانما یضل علیھا تو گمراہی کا ضرر اسی کے نفس پر پڑے گا۔

فما انا علیکم بوکیل اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ تمہارے امور کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے کہ تمہاری گمراہی کا مؤاخذہ مجھ سے ہو۔