تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يس ٧:٣٦

٧:٣٦
لقد حق القول على اكثرهم فهم لا يومنون ٧
لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَىٰٓ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٧
لَقَدۡ
حَقَّ
ٱلۡقَوۡلُ
عَلَىٰٓ
أَكۡثَرِهِمۡ
فَهُمۡ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
٧
لقد وجب العذاب على أكثر هؤلاء الكافرين، بعد أن عُرِض عليهم الحق فرفضوه، فهم لا يصدقون بالله ولا برسوله، ولا يعملون بشرعه. إنا جعلنا هؤلاء الكفار الذين عُرض عليهم الحق فردُّوه، وأصرُّوا على الكفر وعدم الإيمان، كمن جُعِل في أعناقهم أغلال، فجمعت أيديهم مع أعناقهم تحت أذقانهم، فاضطروا إلى رفع رؤوسهم إلى السماء، فهم مغلولون عن كل خير، لا يبصرون الحق ولا يهتدون إليه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

لقد حق۔۔۔۔۔ فھم لا یومنون (36: 7) ” ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے “۔ ان کے معاملے میں اللہ نے فیصلہ صادر کردیا ہے اور اللہ کا فیصلہ ان کے حق میں درست ہے۔ یہ فیصلہ سچائی پر ہوا ہے۔ حق کے مطابق ہے۔ کیونکہ اللہ ان کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔ اللہ ان کے شعور اور میلان سے بھی واقف تھا۔ یہ لوگ ایمان لانے والے ہی نہ تھے۔ اکثریت کا یہی انجام ہے۔ ان کے نفوس اور ہدایت کے درمیان پر دے حائل ہو چلے ہیں۔ وہ نہ سچائی کے دلائل کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو ان کا شعور حاصل ہے۔

جن لوگوں پر اللہ کا فیصلہ حق ہوچکا ان کی نفسیاتی حالت کی تصویر یہ ہے ۔ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں ، ان طوقوں کے اندر وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ان کے اوپر ہدایت کے درمیان پردے اور رکاوٹیں حامل ہوچکی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ، اس لیے وہ سیکھنے کے اہل ہی نہیں رہے۔