تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ٩٢:٢٠

٩٢:٢٠
قال يا هارون ما منعك اذ رايتهم ضلوا ٩٢
قَالَ يَـٰهَـٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوٓا۟ ٩٢
قَالَﱷ
يَٰهَٰرُونُﱸ
مَاﱹ
مَنَعَكَﱺ
إِذۡﱻ
رَأَيۡتَهُمۡﱼ
ضَلُّوٓاْﱽ
٩٢ﱾ
قال موسى لأخيه هارون: أيُّ شيء منعك حين رأيتهم ضلُّوا عن دينهم أن لا تتبعني، فتلحق بي وتتركهم؟ أفعصيت أمري فيما أمرتك به من خلافتي والإصلاح بعدي؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:91إلى 20:92

آیت 91 قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْہِ عٰکِفِیْنَ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰی ”یہ جواب پوری بنی اسرائیل قوم کی طرف سے نہیں تھا بلکہ صرف ان لوگوں کی طرف سے تھا جو ان میں سے بچھڑا پرستی کے مشرکانہ عقیدے میں مبتلا ہوئے تھے اور پھر اس پر اڑ گئے تھے۔ انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کو جواب دیا کہ ہم تو اب اسی کی پرستش کرتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام خود آکر اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔ یہ لوگ اس سے پہلے بھی ایک بت پرست قوم کی دیکھا دیکھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کرچکے تھے الاعراف : 138 کہ ان لوگوں کے بتوں جیسا ہمیں بھی کوئی معبود بنا دیں جس کے سامنے بیٹھ کر ہم پوجا پاٹ کرسکیں۔